عزیز ساتھی وہ لمحہ پا کر
ضرور اپنا حساب کرنا
کیا ہے کیا تم نے
صبح نو کی نمو کی خاطر
ہیں کتنے اب تک قدم بڑھائے
تم اپنی کتنی حَسِین سوچوں کو
عمل کے سانچے میں ڈھال پا
فضا میں تاریکی گر ہو گہری
طویل تر گر سفر ہو اپنا
یہ دو قدم تو بہت ہی کم ہیں
وہ سوز پنہاں وہ چند قطرے
ندامتوں کی تہوں سے بہہ کر
اگر تمہارے عارض پہ پھیل جائیں
اور بارش میں رک رک کر
چبھتے جائیں
تو یہ سمجھنا کے
دِل کے جذبے جوان ہیں اب بھی
یقین کے دھارے جوان ہیں اب بھی
عزیز ساتھی
ارادے باندھو ، عمل میں ڈھالو
فضا میں تاریکی بڑھ گئی ہے
سحر کی روشن جبیں کی خاطر
تم عزم صادق سے کام لے کر
تم اپنے خالق کا نام لے کر
حَسِین جذبوں کی جدتوں سے
سکوت محفل کو سوز دے دو
تمہیں یہ دنیا سنوارنی ہے
فضائے گلشن نکھارنی ہے
ہیں اپنے جھنڈے بلند کرنے
صداقتوں کے ہیں رنگ بھرنے
وقارانسان کو ہے بڑھانا
ہر اک قدم پر دیے جلانا
اجالے کہیں دور تو نہیں ہیں
تمہاری منزل یہیں کہیں ہے
No comments :
Post a Comment